ترووننت پورم،26؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) نیشنل انٹٹیگریٹڈ ڈیسیز سرویلنس پروگرام کے مشیر ڈاکٹر نریش پروہت کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں کووڈ-19کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ ملک کے عوام کو ہوشیاری سے کام لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ ویکسینز اور ہرڈ امیونٹی کی وجہ سے ملک میں چوتھی لہر کا کوئی امکان نہیں ہے -
ڈاکٹر پروہت نے کہا کہ چین میں کورونا کے انتہائی متعدی اومیکرون اسٹرین کی گرفت میں ہے، خاص طور پر بی ایف7-جو کہ اہم قسم ہے اور یہ انفیکشن تیزی سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو اپنی زد میں لے رہا ہے - مقابلے کے لحاظ سے چین اب بھی کمزور ہے، ممکنہ طور پر ویکسین کی کم کارکردگی، کم قدرتی قوت مدافعت، کمزور ویکسی نیشن حکمت عملی جس نے بوڑھے اور کمزوروں پر نوجوان اور صحت مند کو ترجیح دی-مشہور وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر پروہت نے بتایا کہ ابھی بڑے پیمانے پر جانچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے - حکومت نے کسی بھی نئے قسم کے داخلے کو ٹریک کرنے کے لئے ہوائی اڈے پر جانچ کرانے کا درست فیصلہ کیا ہے -
انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90فیصد اہل آبادی نے ویکسین کی دو خوراکیں لی ہیں - انہوں نے زور دیا کہ جن لوگوں نے ابھی تک حفاظتی ویکسین نہیں لی ہے انہیں جلد از جلد ویکسین لگوانی چاہیے - نیشنل انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس پروگرام کے پرنسپل انوسٹی گیٹر ڈاکٹر پروہت نے کہا کہ ہندوستان میں لہر اسی وقت آسکتی ہے جب کوئی نئی شکل سامنے آئے جو ہندوستان میں پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوئی- ہندوستان کی97فیصد اہل آبادی نے پہلی خوراک، جبکہ90فیصد نے دوسری خوراک بھی لی ہے - لیکن، صرف 27فیصد اہل آبادی نے اب تک احتیاطی خوراک لی ہے -انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستانیوں نے ہائبرڈ قوت مدافعت تیار کی ہے جس کی وجہ سے فرد کو بیماری/موت کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ہونے والے انفیکشن سے بھی زیادہ محفوظ بنایا جاتا ہے -
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اپنے شہریوں کے رضاکارانہ اقدامات جیسے روک تھام، جلد تشخیص اور اچھی ویکسی نیشن حکمت عملی سے فائدہ اٹھایا ہے - مرکزی وزیر صحت نے چین، جاپان، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ اور تھائی لینڈ سے آنے والے بین الاقوامی مسافروں کے لئے آر ٹی-پی سی آر ٹسٹ کو لازمی قرار دیا ہے اور کسی بھی مسافر میں کووڈ-19انفیکشن کی علامت یا ٹسٹ مثبت پایا جاتا ہے تو انہیں کورنٹائن رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔